گلگت بلتستان کا آئینی مقدمہ اور خفیہ دستاویزات کیا ہیں ؟؟؟
تحریر: احسان علی ایڈوکیٹ اگلے روز سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے درمیان آئینی تعلق کے تناظر میں جی بی گورنمنٹ آرڈر 2018ء کو غیر آئینی اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیکر یہاں ایک آئین ساز اسمبلی قائم کرنے اور اور ایک بااختیار آئینی عدالتی نظام کیلئے دائر مختلف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے جب اٹارنی جنرل پاکستان سے وفاق پاکستان کی طرف سے موقف پیش کرنے کو کہا تو اٹارنی جنرل نے حسب روایت تاخیزی حربے کے طور پر عدالت پہ دباو ڈالنے کے انداز میں کہا کہ اسکے پاس بعض ایسی خفیہ دستاویزات ہیں جو وہ کھلی عدالت میں نہیں دکھا سکتےانہیں وہ چیمبر میں دکھائےگا ان خفیہ دستاویزات کو دیکھنے کے بعد عدالت جی بی کے مقدمے کا فیصلہ کر لیں اٹارنی جنرل کے بیان میں درپردہ ایک دھمکی تھی کہ عدالت وفاق کی مرضی کے بغیر جی بی کی آئینی پوزیشن سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی مگر عدالت نے اس مضحکہ خیز تاخیزی حربے پہ آٹارنی جنرل کی کوئی سرزنش نہیں کی یہاں تک کے درخواست دہندگان کے وکلاء میں سے بھی کسی نے اٹارنی جنرل کے ان نام نہاد "خفیہ دستاویزات...

Comments
Post a Comment